خیرات کی اقدار

Home|خیرات کی اقدار

عطیات کی معاشی اور سماجی اقدار

پاکستان میں ہزاروں خیراتی تنظیمیں تعلیم،صحت،افراد اور معاشرےکی معاشی ترقی کے لیےمعاشرتی بہبود اور ترقیاتی شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ ہم اپنے عطیات سے متعلق دوبارہ سوچ بچار کو بھی شامل رکھیں۔اس لیے کہ دہشت گردی کےلیے مالی اعانت جیسے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔یہ بھی سوچیں کہ یہ عطیات دہشت گردی سے متاثرہ افراداور متاثرین کی مدد کے لیے کام کرنے والےاداروں کی جانب کیسےمنتقل ہو ں۔

ہمارے صدقات کااندازاور انتخاب اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ہماری رقم ہمارے معاشرے میں کس طرح استعمال ہوتی ہے۔ناجائز،کالعدم تنظیموں سے اچھے خیراتی اداروں کی طرف فنڈز کی منتقلی کا یہ پہلو بہت اہم ہے جویہ سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ

 

  •  کیا دی جانے والی صدقے کی رقم جان بچائے گی یا زندگی کا خاتمہ کرے گی؟

  • سوچیےکیا آپ عطیات دینے سے پہلے خیراتی ادارے کامشاہدہ کرتے ہیں؟یااُس تنظیم کے ٹریک ریکارڈ کی جانچ کیے بغیر ہی اُسے رقم دے دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے توسوچیں کیا یہ درست ہے؟

  • کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا دیا ہواصدقہ اسکول کی تعمیرکرےگایا اُس کی تباہی میں استعمال ہوگا؟

  • کیاآپ نے سوچا ہے کہ آپ کی پسندیدہ خیراتی تنظیمیں یتیم گھر چلاتی ہیں،یا بے گناہ لوگوں کو بلا امتیاز قتل کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔

  • کیا آپ مشاہدہ کرچکے کہ آپ کا عطیہ بچوں کو صحت کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہورہا ہے یا یہ اُن افراد کی مدد کررہا ہےجو میڈیکل ٹیموں میں بے گناہ ورکرز کو نشانہ بنا رہے ہیں؟

  • سوچیں کیا آپ کا صدقہ انسانی کے تحفظ اور فلاح کےفروغ کے کام میں لگ رہا ہے؟یا یہ آپ کو اپنے حقوق سے دور کررہا ہے؟

اگر کوئی بندہ قرض کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہے تو اُسے اس وقت تک مہلت دی جانی چاہیے جب تک کہ وہ رقم کی ادائیگی میں آسانی محسوس نہیں کرتا۔اگر آپ جانتے ہیں کہ نادار اورغریب طبقے کو تسلی دینا اللہ تعالی کے ہاں کیا اہمیت رکھتاہے توآپ اپنی قرض کی وصولی کا حق چھوڑدیں گے، کیوں کہ قرض اللہ کی رضاسےکہیں بہتر ہے۔

سورہ البقرہ کی آیات نمبر 280 میں ارشاد باری تعالی ہے کہ''اور اگر وہ تنگ دست ہےتو آسودہ حالی تک مہلت دینی چاہیے،اوربخش دو توتمہارے لیےبہت ہی بہتر ہے،اگر تم جانتےبھی ہو''۔

اسِی طرح سورہ البقرہ کی آیات نمبر 272میں کہاگیا ہے کہ ''انہیں راہ پر لانا تمھاری ذمہ داری نہیں لیکن اللہ جسے چاہے راہ ہدایت پر لےآتا ہے اور جو مال تم خرچ کرو گے اُس کا نفع تمہاری جان کے لیے ہے اور اللہ ہی کی رضامندی کے لیے خرچ کیا کرو، اور جو اچھی چیز تم خرچ کرو گے اس کا پورا اجرملےگا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا''۔

پھر سورہ المائدہ کی آیات نمبر 32میں ارشاد باری کا مفہوم یوں ہےکہ جو بھی انسان کو زمین میں قتل و غارت گری یا بدعنوانی کے علاوہ کسی دوسرےمقصد کے لیےجان سے ماردیتاہے،یہ ایسےہی ہےجیسے اُس نے سارے انسانوں کو ہلاک کردیا ہو اور جس کسی نے ایک انسان کی جان بچائی،گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی ہو۔

اسی حوالے سے سورہ البقرہ کی آیات 274میں ارشاد باری تعالی کا مفہوم یوں ہے کہ جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن کوچھپ چھپا کر اور ظاہرطور پر،خرچ کرتے ہیں تو اُن کے لیےاجرا(ثواب )اپنے رب کے ہاں ہے اور(قیامت کے دن) وہ ڈریں گے اور نہ غمگین ہوں گے۔

عطیات کا انتخاب

آپ اپنے پیسے کو عطیہ کرتے ہوئےتنظیم کاانتخاب کرنے سے پہلے،بہت سارے طریقوں سے خیرات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

یاد رکھنے کے لیے کچھ چیزیں!

کیا اُس عطیات وصول کرنے والی تنظیم کے انتہا پسند گروہوں سے براہ راست یا بلاواسطہ تعلقات ہیں؟

کیا حکومت کی طرف سے کبھی اُس خیراتی ادارے کو بلیک لسٹ کیا گیاہے؟

یہ پوچھنا آپ کا حق ہے کہ آپ کےدیے ہوئے پیسے کہاں خرچ ہوں گے؟

آپ کے دوستوں اور کنبے کے لوگوں میں خیرات لینے والوں یا دینے والوں کی ساکھ کیاہے؟

اگر چیریٹی تنظیم کی کوئی ویب سائٹ ہے تو اُسےضرورچیک کریں کہ اُس چیریٹی ادارےکاکوئی دفتر ی ایڈریس بھی لکھاہواہے؟

چیریٹی ادارے کی آڈٹ یا سالانہ رپورٹس بھی ضرور پڑھیں کہ کیا یہ ادارہ اپنے کام کی کوئی شائع شدہ تشخیصی اور تصدیق کے لیے کسی طرح کاموادفراہم کرتا ہے؟

 انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے بچنے کاایک آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے عطیات اُن تنظیموں کو دیں جو تشدد سے متاثرہ افراد کی مدد کررہی ہوں۔

محفوظ خیراتی اداروں کی فہرست کے لیے ، یہاں کلک کریں۔

ممنوعہ تنظیموں کی فہرست کے لیے ، یہاں کلک کریں۔