عطیات کا انتخاب

Home|عطیات کا انتخاب

خیراتی ادارے کا انتخاب

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اُن بااعتماد خیراتی اداروں کو اپنےعطیات اورصدقہ خیرات دیں جو معاشرے میں انسانی بھلائی اورترقی کے لیے کام کرتی ہوں۔ایسی معروف تنظیموں کی مددکر کےہم اپنے معاشرے میں بہتری لاسکتے ہیں۔مشکوک خیراتی ادارے جہاں عوام کااستحصال کرتے ہیں تو وہیں معاشرے کےخصوصی افراد،بچوں اوردہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کےحقوق بھی چھین لیتےہیں،جب کہ یہ لوگ ہماری امدادکے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیےخیرات،صدقہ یاچندہ دیتے وقت ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ ہم درج ذیل سوالات میں سے چند سوال پوچھ کر بہت آسانی سے معروف فلاحی اور خیراتی اداروں کو شناخت کرسکتے ہیں کہ یہ کیسے ہیں۔

کیا یہ ادارےحکومت پاکستان کے متعلقہ محکموں سے رجسٹرڈ ہیں؟

یہ فلاحی تنظیمیں آپ کے پیسوں سے کیا کام کریں گی؟

معاشرہ اور خاص طور پرآپ کے دوست اور اہل خانہ متعلقہ تنظیم کی ساکھ بارے کیا رائے رکھتے ہیں؟

براہ کرم اگر ہو سکےتو آپ کو ایسی تنظیوں کا کام خوددیکھنا چاہیے۔

اس مقصد کے لیے آپ پہلےیہ دیکھیں کہ قابل اعتماد خیراتی تنظیموں کی فہرست میں وہ شامل ہے یا نہیں؟کیامتعلقہ تنظیم حکومت پاکستان سے رجسٹرڈ اورمنظور شدہ ہے؟براہ مہربانی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (این اے سی ٹی اے) کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔

 

مستحق لوگوں کی شناخت

صدقہ یاعطیہ اصل حق داروں کا حق ہوتاہے۔ صدقات دینے کا یہ اچھااصول ہےکہ پہلے غور کرلیں خیراتی تنظیم ہمارےمذہب کی تعلیم کے مطابق ہے؟صدقہ دینےسے پہلےاس بات کوبھی چیک کرلینا چاہیے کہ جس کو آپ صدقہ دے رہے ہیں کیاوہ اِس کا مستحق ہےیا نہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے فراڈیے لوگ بھی ہیں،جو بھیس بدل کر عطیات جمع کرلیتے ہیں۔ اس سے اصل ضرورت مند لوگ خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں اور آپ کاپیسہ غلط ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ خیرات دیتے وقت ہمیں بہت ہوشیاررہنا چاہیے۔آج بھی متعدد مشکوک تنظیمیں رقم اکٹھا کےوہ اس کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ ہمارا قومی اور مذہبی فرض ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارا خیراتی رقم انہی لوگوں تک پہنچے جو واقعی مستحق اور ضرورت مندہوں۔

ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے کہ خیرات گھر سے شروع کرنی چاہیے۔ہمیں پہلےاپنے گھر کےافراد، قریبی رشتہ داروں اور اپنے اُڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگوں کو شناخت کرنا چاہیے کہ کون ہماری مالی یا غیر اعانت بخش امداد کامستحق ہے۔ اس کے آپ کی تھوڑی سی تکلیف جہاں مستحق لوگوں کی مدد کرے گا تو وہیں خیرات اور عطیات کو غلط استعمال سے روکے گی۔

 

اے ایم ایل ۔سی ایف ٹی قانون سازی ۔۔۔ اس سے کیوں فرق پڑتا ہے؟

پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام ،پہچان ، رپورٹنگ اور اِن معاملات کی تحقیقات کے لیےاے ایم ایل۔سی ایف ٹی پر مبنی پہلےقواعد و ضوابط بنائے اور پھر اِن کونافذ بھی کیا۔انسداد منی لانڈرنگ(اے ایم ایل)اور مالی معاونت کے ذریعے دہشت گردی(سی ایف ٹی)کےقوانین عام لوگوں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے خطرے سے آگاہ کرتے ہیں اور ملک کے مالی نظام پرعالمی اعتماد کوبحال کرتے ہیں۔دراصل پیسہ وہ بنیادی وجہ ہے جو کسی کو بھی مجرمانہ سرگرمی کا لالچ دے سکتاہے۔ منی لانڈرنگ کے ذریعہ مجرمان اپنی غیر قانونی اور ناجائزدولت کی ابتداء کوچھپاتے ہیں اور اپنے مالی اثاثوں کی  حفاظت کرتے ہیں تاکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہ آجائیں ۔ دراصل وہ جرم ثابت ہونے پرملنے والی سزاسے دور رہنا چاہتے ہیں۔جب کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے پاکستاں کے منی لانڈرنگ تدارک سے متعلقہ قوانین قانون کی بالادستی قائم کرتے ہیں۔

یاد رہےدہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو جرائم کے لیے وسائل(کالے دھن کی شکل میں) کی اکثرضرورت رہتی ہے۔اسی لیےیہ بہت سے غیر قانونی ذرائع سے رقم اکٹھی کرلیتے ہیں ،جس میں خیراتی اداروں کے ذریعے رقم حاصل کرنابھی شامل ہے۔عام طور پر دہشت گرد پیسے کےماخذ کو چھپانے کے لیےزیادہ فکر مند نہیں ہوتے کہ انہوں نے کس طرح اور کس مقصد کے لیے کن لوگوں سے رقم اکٹھی کی، لیکن وہ بالکل اُسی طرح کے حربےاستعمال کرتے ہیں جیسے منی لانڈر پیسےچھپانے کےلیےتکنیک استعمال کرتے ہیں۔اقوام متحدہ اور پاکستان کو نشانہ بنانے والی مالی پریشانیوں کےپس منظر میں اب پاکستان کاانسداد دہشت گردی کانظام،عوام کے تحفظ کے لیے کام کررہا ہے۔مزید تفصیلات کے لیے،براہ کرم آپ ایف بی آر کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔