عمومی سوالات

Home|عمومی سوالات

اکثر پوچھے گئے سوالات

اگرذیل میں دیے گئے گراف کے متن پر غیر جانب داری سے نشان لگائیں گے توآپ کےاعتماد کی حفاظت کے لیےایک درست تفصیل خود بخود تیار ہوجائے گی ۔

٭ حق دار۔۔۔

صدقہ اور خیرات صرف مستحق لوگوں کا حق ہے۔

٭ قانونی حیثیت۔۔۔

عطیات اُن اداروں یا افراد کو ہی دیے جانے چاہیں ،جو ریاست کے قوانین کو تسلیم کرتے ہوں۔

٭  غیرعسکریت پسندی ۔۔۔

عطیات کا بلا واسطہ یا بلواسطہ طورپر عسکریت پسندی کے ساتھ کسی طرح کا تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

 ٭  انتہا پسندی کا خاتمہ۔۔۔

خیرات کا معاشرے کے کسی بھی انتہا پسندطبقے جیسے کسی بھی عنصر سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔

 ٭ مقاصد۔۔۔

حاصل کی گئی خیرات کا مقصد عطیہ کرنے والے فرد کی ترجیح کے مطابق استعمال ہونا چاہیے۔

 ٭ دہشت گردی کی مالی مددکا خاتمہ ۔۔۔

آپ کی خیرات بلا یا بلواسطہ کسی بھی دہشت گردی میں ملوث ادارے کے پاس نہیں جانی چاہیے۔

 ٭ اندراج کا عمل(رجسٹریشن)۔۔۔

عطیات میں شامل خیرات یا صدقات کوہر گز کوئی نیاءنام نہیں دیناچاہیے۔

٭  پہلےتفتیش کریں۔۔۔

اخبارات سے لے کر ، مقامی سرکاری منتظمین اور انٹرنیٹ تک ہرذریعے سےپہلےیہ تحقیق کر لیں کہ متعلقہ خیراتی ادارے کی ساکھ کیسی اور قانونی حیثیت کیا ہے۔

 ٭ خودملاحظہ کریں۔۔۔

خیرات لینےوالافرد یا ادارے کے عملے سے خود جاکربات کی جائے تاکہ یہ تسلی ہو جائے کہ ادارہ یا فردآپ کے عطیات کا مستحق ہے یا نہیں ۔

٭ اگر ذاتی طور پر ملنے سے قاصرہوں؟۔۔۔

ایسے حالات میں اپنے عطیات کی چھان بین کرنے کے لیے اپنی طرف سے کسی اور سے کہیں کہ وہ سچائی کی تحقیق کرے، اس مقصد کے لیے آپ گوگل سرچ کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

٭ عطیہ کرنے کامقصد۔۔۔

آپ کی طرف سےعوامی سطح پرعطیات دینے کا ایک واضح مقصدہونا چاہیے۔

٭  ادارے کاحکومت کےکسی محکمےمیں اندارج ہونا(رجسٹریشن)۔۔۔

عطیات وصول کرنے والے ادارے کاریاست کےمتعلقہ محکمے میں اندارج ہواور اُس انداج کا کوئی تحریری شناختی نمبر بھی ہونا چاہیے۔

٭ ادارے سےرابطے کی تفصیلات۔۔۔

فنڈ اکٹھا کرنے والی تنظیم کا ایڈریس بہت واضح ہونا چاہیے، اس کے علاوہ بینک اکائونٹ نمبراوررابطے کے لیے تمام درکار تفصیلات کا ہونا بھی لازمی ہے۔

٭ ادارے کی شہرت اور ساکھ کیا ہے؟۔۔۔

صدقہ اور خیرات اکٹھے کرنے والے خیراتی اداروں کی عام شہرت کا تعین کیا جانا چاہیے۔

٭ ادارے کی طرف سے شائع ہونے والامواد۔۔۔

خیراتی ادارے کی طرف سے شائع ہونے والے پمفلٹ،رسالہ جات اور دیگر دیکھے اور سنےجانے والے مواد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے کہ کہیں ادارہ فرقہ وارانہ اور انتہا پسندی جیسے عناصر سے وابستہ تو نہیں۔

٭ عطیات کی رسیدیں لینا۔۔۔

کسی بھی فلاحی ادارے کو ہرعطیہ کے بعد اُس سے رسیدضرور حاصل کرنی چاہیے،البتہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ آپ اپنے عطیہ کی رقم ادارےکے بینک اکائونٹ میں خود جمع کرائیں۔

٭ ادارے کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا۔۔۔

آپ کو اپنی عطیہ کی ہوئی رقم کے بارے میں ادارے سے رابطے میں رہنا چاہیے کہ وہ کہاں اور کس کام کے لیے خرچ ہوئی ہے۔

اگرایک فلاحی ادارہ کی مشکوک حرکات و سکنات کو آپ پہچان لیتے ہیں اوروہ تنظیم آپ کو آپ کے سوالات کا تسلی بخش جواب بھی نہیں دیتی (جو آپ کو اوپر بتائے گئے ہیں) تو آپ کو فوراًاپنے عطیات روک کر انسداد دہشت گردی   کے محکمہ(NACTA)

کے امدادی ٹیلی فون نمبر 1717 پر یا پھر اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر اطلاع کرنی چاہیے۔

 

ذیل میں دیے گئےمتن پر نشان لگائیں،درست تفصیل خود بخود تیار ہوجائے گی۔

 ٭  پہلےتفتیش کریں۔۔۔

اخبارات سے لے کر مقامی سرکاری منتظمین اور انٹرنیٹ تک ،ہرذریعے سےیہ تحقیق کر لیں کہ متعلقہ خیراتی ادارے کی ساکھ کیسی اور قانونی حیثیت کیاہے۔

 ٭ خودملاحظہ کریں۔۔۔

خیرات لینےوالافرد یا ادارے کے عملے سے خود جاکربات کرنی چاہیے تاکہ یہ تسلی ہوجائے کہ ادارہ یا فردآپ کے عطیات کا مستحق ہے یا نہیں ۔

٭ اگر ذاتی طور پر ملنے سے قاصرہوں؟۔۔۔

آپ اگر اپنے عطیات کی چھان بین سے معذور ہوں تواپنی طرف سے کسی اور سے کہیں کہ وہ سچائی کی تحقیق کرے، اس مقصد کے لیے آپ گوگل سرچ کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

٭ عطیات دینے کا عوامی سطح پرایک واضح مقصد ہونا چاہیے۔

٭  ادارے کاحکومت کےکسی محکمےمیں اندارج ہونا(رجسٹریشن)۔۔۔

عطیات وصول کرنے والے ادارے کاریاستی سطح پرمتعلقہ محکمے میں اندارج ہونا چاہیےاور اُس انداج کا کوئی تحریری شناختی نمبر بھی موجود ہونا چاہیے۔

٭ ادارے سےرابطے کی تفصیلات۔۔۔

فنڈ اکٹھا کرنے والی تنظیم کا ایڈریس بہت واضح ہونا چاہیے، اس کے علاوہ بینک اکائونٹ نمبراوررابطے کے لیے تمام درکار تفصیلات کا ہونا بھی لازمی ہے۔

٭ ادارے کی شہرت اور ساکھ کیا ہے؟۔۔۔

صدقہ اور خیرات اکٹھے کرنے والے خیراتی اداروں کی عام شہرت کا پہلےتعین کیا جانا چاہیے۔

٭ ادارے کی طرف سے شائع ہونے والامواد۔۔۔

خیراتی ادارے کی طرف سے شائع ہونے والے پمفلٹ،رسالہ جات اور دیگر دیکھے اور سنےجانے والے مواد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے کہ کہیں ادارہ فرقہ وارانہ اور انتہا پسندی جیسے عناصر سے وابستہ تو نہیں۔

٭ عطیات کی رسیدیں لینا۔۔۔

کسی بھی فلاحی ادارے کو ہرعطیہ کے بعد اُس سے رسیدضرور حاصل کریں،البتہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ آپ اپنے عطیہ کی رقم ادارےکے بینک اکائونٹ میں خود جمع کرائیں۔

٭ ادارے کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا۔۔۔

آپ اپنی عطیہ کی ہوئی رقم کے بارے میں ادارے سے رابطے میں رہیں کہ وہ کہاں اور کس کام کے لیے پیسےخرچ کررہا ہے۔

بالکل نہیں،پاکستان میں سیکڑوں اچھے خیراتی اور عوامی فلاح میں مصروف ادارے،سماجی بہبود کی تنظیمیں

اور مذہبی گروہ ہیں ،جنہوں نے حیرت انگیز طور پر نہایت عمدہ کام کیا ہے اور وہ اب بھی کر رہے ہیں۔لیکن عام لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں،جو اپنے گھناؤنے جرائم کو جاری رکھنے کی خاطر خیراتی مدد(رقم)کو حاصل کرنے کے لیےکوئی بھی روپ دھارسکتے ہیں ۔

 

جی ہاں ، بہت سی ایسی تنظیمیںبھی ہیں جومالی عطیات لینے کے لیےاغوا ء برائے تاوان اور بھتہ خوری جیسے  گھناونےذرائع اختیار کرتی ہیں۔ حکومت ان کی کاروائیوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ لیکن ”حق ، حقدارتک” ایک ایسا پیغام ہے جو خیراتی عطیات کو محفوظ ہاتھوں میں رکھنے اور عوام میں اس سے متعلق شعور کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے ۔

 

بدقسمتی سےایسے بُرے اور جعل ساز خیراتی اداروں کی فہرست فراہم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن ایسے اداروں کو خیرات یا مالی مدد کے لیے ہر گزچندہ نہیں دینا چاہیے۔آج بھی بہت سارے گروپ اپنا نام ،پتہ تبدیل کرکے اور مختلف روپ دھار کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لیے ہم نےیہاں پر بے خبری میں دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد سے بچنے کے کچھ آسان طریقے دیے ہیں ۔